امریکا کا دعویٰ—ایران کے خلاف جنگ میں برتری، آپریشن طویل اور خطرناک
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکا نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی میں اپنی برتری کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ جنگ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور جلد ختم ہونے کا امکان نہیں۔
امریکی وزیر دفاع نے ایران کے خلاف جنگ پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اس وقت میدانِ جنگ میں کامیابی حاصل کر رہا ہے اور مزید امریکی افواج کو مشرقِ وسطیٰ بھیجا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق آئندہ ایک ہفتے کے اندر ایران کی فضاؤں پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی افواج ایران پر بھرپور حملے کر رہی ہیں اور ایران کی عسکری طاقت کمزور ہو رہی ہے۔ وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ بحرِ ہند میں ایران کا ایک جنگی بحری جہاز بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ایرانی قیادت نے امریکی صدر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جبکہ ایران میں ایک اسکول پر بمباری کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی فوج کے چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں فضائی کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اب کارروائیاں ایران کے اندرونی علاقوں کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں میں کمی آئی ہے اور امریکی افواج کے پاس ایران کے خلاف جنگ کو جاری رکھنے کے لیے کافی اسلحہ موجود ہے۔
جنرل ڈین کین کے مطابق امریکا کے اتحادی ممالک بھی اپنے دفاع میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ آپریشن انتہائی پیچیدہ اور خطرناک ہے اور اس کے اثرات طویل مدت تک جاری رہ سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو شدید نقصان پہنچا ہے، تاہم ایران کے خلاف جنگ کے مکمل اثرات کا اندازہ لگانے میں وقت لگے گا۔ ترکیہ پر میزائل حملوں کے تناظر میں نیٹو کے آرٹیکل فائیو کے اطلاق سے متعلق بھی صورتحال غیر واضح ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال عالمی سطح پر بڑے تنازعے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے جبکہ خطے میں مزید کشیدگی کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔
LIVE: @SecWar and Chairman of the Joint Chiefs of Staff, Air Force Gen. Dan Caine, hold a press briefing at the Pentagon. https://t.co/0NijeaLSOO
— Department of War 🇺🇸 (@DeptofWar) March 4, 2026
One Response