سری لنکا میں ایرانی جنگی جہاز ڈوب گیا، 140 لاپتا، 80 لاشیں برآمد، ریسکیو آپریشن جاری

سری لنکا کے قریب ایرانی جنگی جہاز آئی آر آئی ایس دینا حادثے کے بعد ریسکیو آپریشن
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

سری لنکا میں ایرانی جنگی جہاز ڈوب گیا، 140 لاپتا، 80 لاشیں برآمد، ریسکیو آپریشن جاری، سری لنکا میں ایرانی جنگی جہاز ڈوب گیا، 140 لاپتا، 80 لاشیں برآمد، ریسکیو آپریشن جاری،

گالے (سری لنکا): سری لنکا کے ساحلی شہر گالے کے قریب بحرِ ہند میں ایرانی بحریہ کا جدید جنگی جہاز ڈوبنے سے بڑا سانحہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں درجنوں ہلاکتوں اور سینکڑوں افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق سری لنکا کی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والے جہاز پر تقریباً 180 افراد سوار تھے، جن میں سے 140 تاحال لاپتا ہیں۔ اب تک 30 افراد کو زندہ نکال لیا گیا ہے جنہیں زخمی حالت میں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔

بعد ازاں حکام نے مزید بتایا کہ سمندر سے 80 افراد کی لاشیں بھی برآمد ہو چکی ہیں، جس کے بعد ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

امدادی کارروائیاں تیز، بحریہ اور فضائیہ متحرک

سری لنکن حکام کے مطابق حادثے کے فوراً بعد بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔ اس آپریشن میں سری لنکا کی بحریہ اور فضائیہ مشترکہ طور پر حصہ لے رہی ہیں۔

ریسکیو ٹیمیں سمندر میں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں جبکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، جن میں ہڈیوں کے فریکچر، جلنے کے زخم اور شدید چوٹیں شامل ہیں۔

حادثے کا شکار جہاز کون سا تھا؟

حادثے کا شکار ہونے والا ایرانی جنگی جہاز "آئی آر آئی ایس دینا” تھا، جو ایرانی بحریہ کے 86ویں بیڑے کا حصہ تھا۔ یہ جہاز مکمل طور پر ایران میں تیار کیا گیا تھا اور اسے ایرانی بحری طاقت کی اہم علامت سمجھا جاتا تھا۔

امریکا ایران کے خلاف جنگ کے دوران امریکی فوجی کارروائی کی منظر کشی
امریکا کا دعویٰ: ایران کے خلاف جنگ میں برتری حاصل

یہ جدید جنگی جہاز مختلف مہلک ہتھیاروں سے لیس تھا جن میں:

نور اور قدر اینٹی شپ میزائل

76 ایم ایم فجر 27 نیول گن

30 ایم ایم دفاعی ہتھیار

شامل تھے۔ جہاز کی لمبائی تقریباً 95 میٹر اور وزن تقریباً 1500 ٹن تھا۔

عالمی سفر اور فوجی اہمیت

آئی آر آئی ایس دینا نہ صرف ایک جنگی جہاز تھا بلکہ ایران کی بحری صلاحیتوں کی نمائندگی بھی کرتا تھا۔ یہ جہاز 2022 سے 2023 کے دوران تقریباً 65 ہزار کلومیٹر پر محیط عالمی بحری سفر مکمل کر چکا تھا۔

ماہرین کے مطابق ایرانی جنگی جہاز کی موجودگی کسی بھی خطے میں ایران کی عسکری طاقت کا واضح پیغام سمجھی جاتی تھی۔

حادثہ کیسے پیش آیا؟

سری لنکا کے وزیر خارجہ وجیتھا ہیراتھ نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ آج صبح جہاز سے ہنگامی سگنلز موصول ہوئے، جس کے فوراً بعد ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔

تاہم اب تک جہاز کے ڈوبنے کی اصل وجہ سامنے نہیں آ سکی۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور جلد حقائق سامنے لائے جائیں گے۔

کیا جہاز کو نشانہ بنایا گیا؟

حادثے کے بعد سیاسی حلقوں میں سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں۔ اپوزیشن کے ایک رکنِ پارلیمنٹ نے یہ سوال اٹھایا کہ آیا ایران کے خلاف جاری امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے تناظر میں اس جہاز کو نشانہ بنایا گیا؟

تاہم حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، جس کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

بحری مشق میں شرکت کے لیے آیا تھا

بھارتی بحریہ کی مشرقی کمان کے مطابق ایرانی جنگی جہاز خطے میں ایک بین الاقوامی بحری مشق میں شرکت کے لیے موجود تھا۔ اس مشق کو "IRF & MILAN 2026” کا نام دیا گیا ہے، جس میں مختلف ممالک کی بحری افواج حصہ لے رہی ہیں۔

خطے میں کشیدگی اور خدشات

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں پہلے ہی ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ اس حادثے نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق اگر یہ حادثہ کسی بیرونی حملے کا نتیجہ ثابت ہوا تو اس کے سنگین عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

نتیجہ

سری لنکا کے قریب ایرانی جنگی جہاز کا ڈوبنا ایک بڑا سانحہ ہے جس نے نہ صرف کئی انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا بلکہ خطے کی سیاسی و عسکری صورتحال کو بھی مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے اور دنیا کی نظریں اس واقعے کی تحقیقات پر مرکوز ہیں۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]