آبنائے ہرمز میں کشیدگی، امریکی بحریہ کو بارودی سرنگیں صاف کرنے کا حکم
واشنگٹن: آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی بحریہ کو اہم ہدایات جاری کر دی ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے مبینہ طور پر بارودی سرنگیں بچھانے کے دعووں نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کے “مائن سویپرز” (بارودی سرنگیں صاف کرنے والے جہاز) پہلے ہی کام کر رہے ہیں اور اس عمل کو مزید تیز کیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق اس کارروائی کی رفتار تین گنا تک بڑھانے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ عالمی بحری راستے کو جلد از جلد محفوظ بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سمندری گزرگاہ کی بحالی عالمی تجارت کیلئے نہایت ضروری ہے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ انہوں نے امریکی بحریہ کو ہدایت دی ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کسی بھی کشتی کو فوری طور پر تباہ کر دیا جائے، چاہے وہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔
دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب پر ماضی میں بھی آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں، تاہم امریکی حکام نے حالیہ صورتحال میں ان دعوؤں کی مکمل تصدیق نہیں کی۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل بردار سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے اور عالمی برادری کشیدگی کم کرنے کیلئے مختلف سفارتی کوششوں میں مصروف ہے۔
"I have ordered the United States Navy to shoot and kill any boat, small boats though they may be (Their naval ships are ALL, 159 of them, at the bottom of the sea!), that is putting mines in the waters of the Strait of Hormuz. There is to be no hesitation." - President Donald J.… pic.twitter.com/zRS9PEfUBW
— The White House (@WhiteHouse) April 23, 2026
One Response