وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس: قیمتی پتھروں کی برآمدات بڑھانے کیلئے 3 سینٹرز آف ایکسی لینس قائم کرنے کا فیصلہ
قیمتی پتھروں کی برآمدات میں اضافہ پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے، اور اسی مقصد کے تحت وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک میں قیمتی پتھروں کی صنعت کو فروغ دینے، برآمدات بڑھانے اور عالمی منڈی میں پاکستان کی پوزیشن مستحکم کرنے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔
وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے، خصوصاً قیمتی پتھروں کے ذخائر کے حوالے سے پاکستان دنیا کے نمایاں ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان وسائل کو جدید ٹیکنالوجی اور بہتر حکمت عملی کے ذریعے استعمال کیا جائے تو ملک کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ ملک میں قیمتی پتھروں کی کٹائی، تراش خراش اور زیورات سازی کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے تین جدید سینٹرز آف ایکسی لینس قائم کیے جائیں گے۔ یہ مراکز جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوں گے اور یہاں ماہرین کی مدد سے قیمتی پتھروں کی ویلیو ایڈیشن پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
حکومتی حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ ان مراکز کے قیام کیلئے گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں اراضی مختص کر دی گئی ہے، جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی ایک مرکز کے قیام کیلئے اقدامات جاری ہیں۔ ان علاقوں کا انتخاب اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ یہاں قیمتی پتھروں کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر وزارت منصوبہ بندی کو ہدایت کی کہ وہ قیمتی پتھروں کی برآمدات میں اضافہ کیلئے فوری طور پر ایک جامع اور قابل عمل لائحہ عمل تیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور تمام مراحل کو تیز رفتاری سے مکمل کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں قیمتی پتھروں کی صنعت میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، لیکن اس شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے معاون خصوصی ہارون اختر اور ان کی ٹیم کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کوششوں کو مزید وسعت دی جائے۔
ماہرین کے مطابق، اگر قیمتی پتھروں کی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تو پاکستان سالانہ اربوں ڈالر کی برآمدات حاصل کر سکتا ہے۔ اس وقت پاکستان سے خام قیمتی پتھر برآمد کیے جاتے ہیں، جس سے ملک کو کم فائدہ حاصل ہوتا ہے، لیکن اگر ان پتھروں کو ملک کے اندر ہی پراسیس کیا جائے تو ان کی قیمت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔
اسی تناظر میں سینٹرز آف ایکسی لینس کا قیام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ان مراکز میں نہ صرف قیمتی پتھروں کی پروسیسنگ کی جائے گی بلکہ ہنر مند افراد کو تربیت بھی فراہم کی جائے گی، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
حکومت کی جانب سے اس اقدام کو پاکستان کی برآمدی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف قیمتی پتھروں کی صنعت کو فروغ دے گا بلکہ ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع بھی پیدا کرے گا۔
مزید برآں، اس منصوبے سے مقامی صنعتکاروں کو بھی فائدہ ہوگا، کیونکہ انہیں جدید سہولیات اور عالمی معیار کی ٹریننگ دستیاب ہوگی۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کی جیولری انڈسٹری بھی ترقی کرے گی اور عالمی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کی مانگ میں اضافہ ہوگا۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس اقدام سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی بہتری آئے گی، جو موجودہ معاشی صورتحال میں انتہائی اہم ہے۔
آخر میں وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے کام کریں اور اس منصوبے کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ پاکستان اپنی قدرتی دولت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے۔


One Response