ماسکو وزیر خارجہ عباس عراقچی کی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات، تعاون مزید مضبوط کرنے پر اتفاق، عباس عراقچی کا روسی حمایت پر شکریہ
ماسکو: عباس عراقچی اپنے سہہ ملکی دورے کے دوران روس پہنچ گئے جہاں انہوں نے صدر ولادیمیر پیوٹن سے اہم ملاقات کی، جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور خطے میں جاری کشیدگی پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
روسی سرکاری میڈیا کے مطابق عباس عراقچی کی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات میں خصوصی طور پر آبنائے ہرمز کی بندش، امریکی ناکہ بندی اور خطے میں امن و استحکام کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایرانی وزیر خارجہ کو مکمل حمایت اور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ روس خطے میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرے گا اور ایسے اقدامات کرے گا جو ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے مفاد میں ہوں۔

انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ایرانی عوام اپنی خودمختاری اور حوصلے کے ساتھ اس مشکل دور سے نکل آئیں گے اور نئی قیادت کے تحت ملک میں استحکام قائم ہوگا۔
اس موقع پر عباس عراقچی نے روس کی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور روس کے تعلقات پہلے سے مضبوط ہیں اور مستقبل میں مزید مستحکم ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ وہ اپنی مزاحمت اور بہادری کے ذریعے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور کسی بھی دباؤ کے باوجود اپنے مفادات کا دفاع کرے گا۔
عباس عراقچی کی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کے دوران صدر پیوٹن نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے ایک خصوصی پیغام موصول ہوا ہے، جس پر انہوں نے شکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عباس عراقچی کی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات خطے میں جاری جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دی جا رہی ہے، جو ایران، روس اور مغربی طاقتوں کے درمیان تعلقات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
NOW
Vladimir Putin receives Abbas Araghchi in an official meeting in Moscow.
Putin affirmed during the meeting that the Iranian people are fighting bravely in defense of their sovereignty, expressing hope that Iran will overcome this difficult phase and that peace will return… pic.twitter.com/E7etlvwkK2
— RussiaNews 🇷🇺 (@mog_russEN) April 27, 2026