سؤر کے گردوں اور جگر کی پیوندکاری: انسان میں پہلی بار کامیاب تجربہ

سؤر کے گردوں اور جگر کی پیوندکاری کا انسان میں پہلا کامیاب تجربہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

چین میں پہلی بار انسان میں سؤر کے گردوں اور جگر کی بیک وقت پیوندکاری کامیاب

سؤر کے گردوں اور جگر کی پیوندکاری کے میدان میں سائنسدانوں نے ایک تاریخی سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ چین میں پہلی بار ایک انسان کے جسم میں سؤر کے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ گردوں اور جگر کو بیک وقت کامیابی کے ساتھ ٹرانسپلانٹ کیا گیا، جسے ماہرین طب مستقبل کی آرگن ٹرانسپلانٹ ٹیکنالوجی کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔

دنیا بھر میں اعضا کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ہزاروں مریض گردوں، جگر، دل اور دیگر اعضا کی پیوندکاری کے انتظار میں زندگی کی جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں جانوروں کے اعضا کو انسانی جسم میں استعمال کرنے کے تجربات امید کی ایک نئی کرن بن کر سامنے آئے ہیں۔

چین میں تاریخی تجربہ

چین کی گوانگشی میڈیکل یونیورسٹی سے وابستہ فرسٹ ایفلیٹڈ ہاسپٹل کے محققین نے دماغی طور پر مردہ قرار دیے گئے ایک فرد پر یہ اہم تجربہ انجام دیا۔ اس مریض میں سؤر کے دو گردے اور ایک جگر کامیابی سے ٹرانسپلانٹ کیے گئے۔

یہ پہلا موقع ہے جب مختلف جانوروں کے اعضا کو ایک ساتھ انسانی جسم میں منتقل کرکے ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اس سے پہلے دل، گردے اور پھیپھڑوں کے الگ الگ تجربات تو کیے جا چکے تھے، مگر متعدد اعضا کی بیک وقت پیوندکاری پہلی مرتبہ ہوئی۔

اعضا نے کیسے کام کیا؟

محققین کے مطابق پیوندکاری کے بعد پانچ دن تک مریض کے جسم میں کسی قسم کا شدید منفی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ ایک اہم پیشرفت ہے کیونکہ انسانی مدافعتی نظام اکثر بیرونی اعضا کو مسترد کر دیتا ہے۔

تحقیقی ٹیم نے بتایا کہ:

  • جگر نے بائیل (صفرا) بنانا شروع کر دیا۔
  • گردوں نے پیشاب تیار کیا۔
  • خون کی روانی مستحکم رہی۔
  • اعضا نے ابتدائی طور پر معمول کے مطابق کام کیا۔

یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ جانوروں کے اعضا مستقبل میں انسانی مریضوں کے لیے قابلِ استعمال ہو سکتے ہیں۔

جینیاتی تبدیلیاں کیوں ضروری تھیں؟

سائنسدانوں نے سؤر کے اعضا کو انسانی جسم کے لیے موزوں بنانے کے لیے مجموعی طور پر 6 جینیاتی تبدیلیاں کیں۔ان میں:

  • 3 انسانی جینز شامل کیے گئے۔
  • 3 ایسے سؤری جینز نکال دیے گئے جن پر انسانی مدافعتی نظام شدید ردعمل ظاہر کرتا ہے۔

اس جینیاتی ترمیم کا مقصد اعضا کے مسترد ہونے کے خطرے کو کم کرنا تھا۔

اعضا کی کمی کا عالمی مسئلہ

دنیا بھر میں لاکھوں مریض آرگن ٹرانسپلانٹ کے منتظر ہوتے ہیں، لیکن عطیہ دہندگان کی تعداد محدود ہونے کی وجہ سے اکثر مریض بروقت عضو حاصل نہیں کر پاتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جانوروں کے اعضا انسانی جسم میں محفوظ طریقے سے استعمال کیے جا سکیں تو:

  • انتظار کی فہرستیں کم ہو سکتی ہیں۔
  • ہزاروں جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
  • اعضا کی عالمی قلت میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

ماضی کے تجربات

یہ پہلا موقع نہیں جب سؤر کے اعضا انسانی جسم میں لگائے گئے ہوں۔

سؤر کے دل کی پیوندکاری

2022 میں 57 سالہ امریکی مریض David Bennett میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سؤر کا دل لگایا گیا تھا۔

اگرچہ آپریشن ابتدائی طور پر کامیاب رہا، تاہم مریض دو ماہ بعد انتقال کر گئے۔

دوسرا دل ٹرانسپلانٹ

2023 میں Lawrence Faucette نامی مریض میں بھی سؤر کا دل ٹرانسپلانٹ کیا گیا، مگر تقریباً چھ ہفتوں بعد ان کا انتقال ہو گیا۔

سؤر کے گردے کی پیوندکاری

2024 میں Massachusetts General Hospital کے ماہرین نے ایک 62 سالہ مریض میں سؤر کا گردہ کامیابی سے لگایا تھا۔

سؤر کے پھیپھڑے

2025 میں چین کے سائنسدانوں نے پہلی بار سؤر کے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ پھیپھڑے ایک انسانی جسم میں لگائے جو نو دن تک فعال رہے۔

مستقبل کے امکانات

ماہرین کے مطابق موجودہ تجربہ طویل المدتی علاج نہیں بلکہ ایک تحقیقی مطالعہ تھا۔ تاہم نتائج اس بات کی امید پیدا کرتے ہیں کہ مستقبل میں جانوروں کے اعضا انسانی مریضوں کے لیے محفوظ اور مؤثر متبادل بن سکتے ہیں۔

اگر مزید تحقیق کامیاب رہی تو آنے والے برسوں میں:

  • گردوں کی پیوندکاری میں انقلاب آ سکتا ہے۔
  • جگر اور دل کے مریضوں کو نئے مواقع مل سکتے ہیں۔
  • اعضاء کے عطیات پر انحصار کم ہو سکتا ہے۔

سؤر کے گردوں اور جگر کی پیوندکاری کا یہ کامیاب تجربہ طب اور بائیو ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ اس ٹیکنالوجی کو عام علاج کا حصہ بننے میں ابھی وقت لگے گا، لیکن ابتدائی نتائج مستقبل میں اعضا کی کمی کے مسئلے کے حل کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتے ہیں۔

READ MORE FAQS

سوال: سؤر کے گردوں اور جگر کی پیوندکاری کہاں کی گئی؟

جواب: یہ تجربہ چین میں گوانگشی میڈیکل یونیورسٹی کے ماہرین نے انجام دیا۔

سوال: کتنے اعضا ٹرانسپلانٹ کیے گئے؟

جواب: دو گردے اور ایک جگر انسانی جسم میں منتقل کیے گئے۔

سوال: کیا جسم نے اعضا کو مسترد کیا؟

جواب: ابتدائی پانچ دنوں میں اعضا مسترد ہونے کا کوئی بڑا ردعمل سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ خبریں

2 responses

اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6

🕌 نماز کے اوقات

فجر03:13 AM
طلوع آفتاب04:57 AM
ظہر12:09 PM
عصر03:53 PM
مغرب07:20 PM
عشاء09:04 PM