اپوزیشن ہمارے بھائی ہیں، آئیں بیٹھیں، بات چیت کیلئے تیار ہوں: وزیراعظم کی اپوزیشن کو میثاق جمہوریت کی دعوت، آج بھی مذاکرات اور قومی معاملات پر مشاورت کے لیے تیار
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر اپوزیشن جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اختلاف سے کوئی لڑائی نہیں، وہ ہمارے بھائی ہیں اور بطور وزیراعظم ہر وقت بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ قومی اسمبلی ملک بھر کے عوام کی نمائندہ ہے اور یہ ایوان ہمیشہ اس حقیقت کی گواہی دے گا کہ پاکستان کی بقا اور استحکام ہی ہم سب کے وجود کی ضمانت ہے۔
خطاب کے دوران انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما ثنا اللہ مستی خیل کا ذکر کرتے ہوئے دوستانہ انداز میں کہا کہ ان کے ساتھ ان کا پرانا اور بھائیوں جیسا تعلق ہے اور وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر حالات مختلف ہوتے تو شاید وہ حکومتی بنچوں میں موجود ہوتے۔

شہباز شریف نے اپوزیشن ارکان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ خود اپوزیشن لیڈر تھے تو ان کی جانب سے کی جانے والی مفاہمتی پیشکشوں کو قبول نہیں کیا گیا، تاہم وہ آج بھی مذاکرات اور قومی معاملات پر مشاورت کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی خودمختاری آئینی حق ہے اور صوبوں کے وسائل ان کی ملکیت ہیں، اس معاملے پر کسی قسم کا اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے بلوچستان کے حوالے سے کہا کہ ریکوڈک منصوبے میں بلوچستان کے عوام کے حقوق اور حصص کا تحفظ یقینی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کا حصہ بڑھانے کے لیے دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب نے اپنے حصص میں کمی قبول کی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے کسانوں کو مفت سولر پینلز کی فراہمی کے منصوبے پر 75 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ صوبے میں ایک اہم شاہراہ کی تعمیر پر تقریباً 300 ارب روپے کی لاگت آئے گی۔
وزیراعظم نے مظفر آباد ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والے پاک فوج کے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم اپنے شہدا کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان سمیت ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں خوارج ملوث ہیں اور سرحدی باڑ کی تنصیب ملکی سلامتی کے لیے ناگزیر اقدام تھا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاک فوج کے افسران اور جوان اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر قوم کے مستقبل کا تحفظ کرتے ہیں، اس لیے ہم سب پر لازم ہے کہ ان کی قربانیوں کا احترام کریں اور قومی یکجہتی کو فروغ دیں۔
" اس ایوان کے منتخب ارکان پاکستان کے چاروں صوبوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ہمیں سب کا احترام ہے، یہ ایوان ایک گھر کی طرح ہے، ہم سب کو پاکستان کو مضبوط بنانے اور تعلقات میں کہیں دراڑ ہے تو اس کو دور کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہے، عزت و احترام کو فروغ دینا ہے،سیاست،نظریات اور سوچ… pic.twitter.com/EixsvplM2v
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) June 13, 2026
READ MORE FAQS”
سوال: وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن سے کیا کہا؟
جواب: انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ان کے بھائی ہیں اور وہ بطور وزیراعظم مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔
سوال: وزیراعظم نے بلوچستان کے حوالے سے کیا بات کی؟
جواب: انہوں نے ریکوڈک منصوبے میں بلوچستان کے حقوق کے تحفظ اور کسانوں کیلئے سولر منصوبے کا ذکر کیا۔
سوال: وزیراعظم نے شہدا کے بارے میں کیا کہا؟
جواب: انہوں نے مظفر آباد ہیلی کاپٹر حادثے کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی قربانیوں کو قوم کیلئے عظیم سرمایہ قرار دیا۔
سوال: سرحدی باڑ کے بارے میں وزیراعظم کا مؤقف کیا تھا؟
جواب: ان کا کہنا تھا کہ ملکی سلامتی کیلئے سرحدوں پر باڑ کی تنصیب ایک درست اور ناگزیر اقدام تھا۔
سوال: کیا وزیراعظم نے قومی یکجہتی پر زور دیا؟
جواب: جی ہاں، انہوں نے سیاسی اختلافات کے باوجود قومی مفاد میں اتحاد اور مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔






