مہاجرین کی نشستوں کا خاتمہ جائز مطالبہ ہے، معاملہ اسمبلی میں زیر بحث آنا چاہیے، سیاسی حقوق کے حصول کا بہترین راستہ جمہوری اور سیاسی جدوجہد ہے، نہ کہ احتجاج یا ہنگامہ آرائی: وزیراعظم آزاد کشمیر
مظفرآباد: وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ ایک اہم آئینی اور سیاسی مسئلہ ہے، جس پر سنجیدہ اور بامعنی بحث کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل سے متعلق کسی بھی فیصلے کے لیے قانون ساز اسمبلی ہی سب سے مناسب فورم ہے۔
اپنے ایک بیان میں وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ سیاسی حقوق کے حصول کا بہترین راستہ جمہوری اور سیاسی جدوجہد ہے، نہ کہ احتجاج یا ہنگامہ آرائی۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام متعلقہ فریقین کو آئینی اور جمہوری طریقہ کار کے تحت اپنے مؤقف کو آگے بڑھانا چاہیے۔
فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ مہاجرین کی نشستوں کی موجودہ حیثیت قابلِ قبول نہیں رہی۔ ان کے بقول ان نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کسی شکوے یا گلے پر مبنی نہیں بلکہ ایک جائز آئینی اور سیاسی مطالبہ ہے، جس پر کھلے ذہن کے ساتھ غور کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس حساس معاملے پر جذبات کے بجائے آئینی تقاضوں، عوامی نمائندگی اور جمہوری اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جانا چاہیے تاکہ ایسا حل نکالا جا سکے جو تمام متعلقہ فریقین کے لیے قابل قبول ہو۔
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کا ردعمل
دوسری جانب وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے وزیراعظم آزاد کشمیر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر فیصل ممتاز راٹھور نے اس حوالے سے کوئی باقاعدہ تجویز یا فارمولا پیش کیا ہے تو وہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کی بنیاد پر حکومت کوئی حتمی مؤقف اختیار نہیں کر سکتی۔ اگر وزیراعظم آزاد کشمیر مسلم لیگ (ن) یا وفاقی حکومت کے ساتھ اس حوالے سے کوئی باضابطہ تجویز شیئر کرتے ہیں تو اس پر مناسب ردعمل دیا جائے گا۔
طارق فضل چوہدری نے واضح کیا کہ اس وقت مہاجرین کی 12 مخصوص نشستیں آئینی طور پر برقرار ہیں اور انہیں فوری طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق ان نشستوں کے خاتمے کے لیے آئین میں ترمیم ضروری ہوگی، جس کے بغیر کوئی قانونی تبدیلی ممکن نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر مستقبل میں نئی منتخب قانون ساز اسمبلی آئینی ترمیم کے ذریعے اس معاملے پر کوئی فیصلہ کرنا چاہے تو وہ آئینی طریقہ کار کے مطابق ایسا کر سکتی ہے، تاہم موجودہ قانونی حیثیت کے مطابق مہاجرین کی تمام 12 نشستیں برقرار رہیں گی۔
آئینی اور سیاسی اہمیت
مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ گزشتہ کئی برسوں سے آزاد کشمیر کی سیاست میں زیر بحث رہا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں اس حوالے سے الگ الگ مؤقف رکھتی ہیں، جبکہ آئینی ماہرین کے مطابق اس نظام میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے آئینی ترمیم اور متعلقہ قانون ساز اداروں کی منظوری ناگزیر ہے۔
حالیہ بیانات کے بعد ایک بار پھر مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے، اور آئندہ دنوں میں اس حوالے سے مزید سیاسی اور آئینی پیش رفت متوقع ہے۔
Life will go on. Things will be back to normal again. What has been happening will become past.
But not for those mothers who lost their sons. Not for the children who lost their fathers. Not for the ones who lost their lives only because their blood was needed to fuel unrest.… pic.twitter.com/xHhW0LO3kp
— Faisal Mumtaz Rathore (@PMofAJK) June 30, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: وزیراعظم آزاد کشمیر نے مہاجرین کی نشستوں کے بارے میں کیا کہا؟
جواب: فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ مہاجرین کی نشستوں کی موجودہ حیثیت ناقابل قبول ہے اور ان کا خاتمہ ایک جائز آئینی مطالبہ ہے۔
سوال 2: کیا مہاجرین کی 12 نشستیں فوری ختم کی جا سکتی ہیں؟
جواب: وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کے مطابق ان نشستوں کے خاتمے کے لیے آئینی ترمیم درکار ہے، اس لیے انہیں فوری ختم نہیں کیا جا سکتا۔
سوال 3: اس معاملے پر بحث کہاں ہونی چاہیے؟
جواب: وزیراعظم آزاد کشمیر کے مطابق اس موضوع پر جامع بحث کے لیے قانون ساز اسمبلی سب سے موزوں فورم ہے۔
سوال 4: حکومتِ پاکستان کا موجودہ مؤقف کیا ہے؟
جواب: وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ آئینی ڈھانچے کے تحت مہاجرین کی 12 نشستیں برقرار رہیں گی، اور کسی بھی تبدیلی کے لیے آئینی ترمیم ضروری ہوگی۔
سوال 5: کیا نئی اسمبلی اس معاملے پر فیصلہ کر سکتی ہے؟
جواب: جی ہاں، وفاقی وزیر کے مطابق انتخابات کے بعد تشکیل پانے والی نئی اسمبلی آئینی ترمیم کے ذریعے اس معاملے پر فیصلہ کر سکتی ہے۔






