اسلم آر خان انتقال کرگئے، پی آئی اے چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز کا انتقال
اسلم آر خان انتقال کرگئے اور ان کے انتقال کی خبر نے قومی ایئر لائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) سمیت فضائی صنعت سے وابستہ حلقوں میں گہرے دکھ اور افسوس کی لہر دوڑا دی۔ وہ پی آئی اے کے چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور کئی دہائیوں پر محیط تجربے کے حامل ایوی ایشن ماہر سمجھے جاتے تھے۔
پی آئی اے حکام کے مطابق اسلم آر خان گزشتہ کئی روز سے علیل تھے۔ طبیعت زیادہ خراب ہونے پر انہیں کراچی کے ایک نجی اسپتال میں منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ زیر علاج رہے، تاہم طبی کوششوں کے باوجود جانبر نہ ہو سکے اور انتقال کر گئے۔
اسلم آر خان کا شمار ان شخصیات میں ہوتا تھا جنہوں نے پاکستان کی قومی ایئر لائن کے مختلف ادوار میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ تقریباً چھ دہائیوں تک پی آئی اے سے وابستہ رہے اور ادارے کے مختلف شعبوں میں اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، انتظامی تجربے اور ادارے سے وابستگی کو پی آئی اے کے اندر اور باہر بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
پی آئی اے کے حکام کا کہنا ہے کہ مرحوم کا مقام ادارے میں ایک شفیق بزرگ اور رہنما جیسا تھا۔ انہوں نے نہ صرف ادارے کی ترقی کے لیے کام کیا بلکہ نوجوان افسران اور ملازمین کی تربیت اور رہنمائی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کی شخصیت کو دیانت داری، پیشہ ورانہ مہارت اور ادارے کے مفاد کے لیے مشکل فیصلے کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا۔
گزشتہ چند برسوں میں جب پی آئی اے مالی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا کر رہی تھی، اسلم آر خان نے ادارے کی تنظیم نو اور اصلاحات کے عمل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کے دور میں ایسے متعدد فیصلے کیے گئے جن کا مقصد قومی ایئر لائن کی مالی حالت کو بہتر بنانا اور اسے دوبارہ منافع بخش ادارہ بنانا تھا۔
ماہرین کے مطابق اسلم آر خان ادارہ جاتی اصلاحات کے حامی تھے اور وہ جدید تقاضوں کے مطابق قومی ایئر لائن کو مزید مؤثر اور مسابقتی بنانے کے لیے کوشاں رہے۔ ان کے وژن اور تجربے نے پی آئی اے کی انتظامیہ کو کئی اہم مواقع پر درست سمت فراہم کی۔
پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ اسلم آر خان کا انتقال نہ صرف ان کے لیے ذاتی صدمہ ہے بلکہ پوری پی آئی اے فیملی کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم کے ساتھ کام کرنا ایک اعزاز تھا اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
اسلم آر خان پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ فلاحی سرگرمیوں میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ مختلف سماجی اور رفاہی منصوبوں کی سرپرستی کے باعث وہ عوامی حلقوں میں بھی احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ان کی شخصیت صرف ایک ایوی ایشن ماہر تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ معاشرتی خدمت کے جذبے سے بھی سرشار تھے۔
ان کے انتقال پر ایوی ایشن انڈسٹری، کاروباری شخصیات، سابق و موجودہ پی آئی اے ملازمین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی صارفین مرحوم کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔
خاندانی ذرائع کے مطابق مرحوم کی نماز جنازہ بعد از نماز جمعہ ان کی رہائش گاہ خیابان غازی، ڈیفنس کراچی میں ادا کی جائے گی، جس میں عزیز و اقارب، دوست احباب، پی آئی اے حکام اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔
اسلم آر خان کا انتقال پاکستان کی فضائی صنعت کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کی طویل خدمات، تجربہ اور ادارے کے لیے گراں قدر کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
READ MORE FAQS
اسلم آر خان کون تھے؟
اسلم آر خان پی آئی اے کے چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز تھے اور تقریباً 60 سال تک قومی ایئر لائن سے وابستہ رہے۔
اسلم آر خان کا انتقال کب ہوا؟
وہ طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، جبکہ گزشتہ چند روز سے اسپتال میں زیر علاج تھے۔
اسلم آر خان نے پی آئی اے میں کیا کردار ادا کیا؟
انہوں نے پی آئی اے کی تنظیم نو، انتظامی اصلاحات اور ادارے کو منافع بخش بنانے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا۔
اسلم آر خان کی نماز جنازہ کہاں ادا کی جائے گی؟
نماز جنازہ بعد از نماز جمعہ ان کی رہائش گاہ خیابان غازی، ڈیفنس کراچی میں ادا کی جائے گی۔








