گوگل کا نیا فلوٹنگ اے آئی سرچ بار فیچر، صارفین کو براہ راست AI ٹولز تک رسائی ملے گی
گوگل فلوٹنگ اے آئی سرچ بار فیچر ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ گوگل اس وقت ایک ایسے جدید سرچ فیچر کی آزمائش کر رہا ہے جو ڈیسک ٹاپ صارفین کے براؤزنگ تجربے کو مزید آسان اور مؤثر بنا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس نئے فیچر کو فی الحال “پراجیکٹ لوم” کا نام دیا گیا ہے اور اسے گوگل کروم کے تجرباتی ورژن Canary میں دیکھا گیا ہے۔ اس فیچر کی خاص بات یہ ہے کہ سرچ بار مسلسل اسکرین پر موجود رہتی ہے، جس سے صارفین کسی بھی وقت فوری طور پر سرچ یا مصنوعی ذہانت سے متعلق کام انجام دے سکتے ہیں۔
گوگل نے اس نئے سرچ انٹرفیس کو جدید AI صلاحیتوں سے لیس کیا ہے۔ صارفین اب صرف ویب سرچ ہی نہیں بلکہ براہ راست مصنوعی ذہانت کے مختلف ٹولز تک بھی رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس طرح اضافی ویب صفحات یا علیحدہ ایپلی کیشنز کھولنے کی ضرورت کم ہو جائے گی۔
فلوٹنگ سرچ بار کے ذریعے تصاویر اپ لوڈ کرنے، دستاویزات کا تجزیہ کروانے، معلومات کا خلاصہ حاصل کرنے اور AI کی مدد سے تخلیقی مواد یا آرٹ ورک تیار کرنے جیسی سہولیات دستیاب ہو سکتی ہیں۔ یہ تمام فیچرز ایک ہی جگہ پر فراہم کرنے کا مقصد صارفین کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق گوگل کا یہ اقدام مصنوعی ذہانت کو روزمرہ براؤزنگ تجربے کا حصہ بنانے کی حکمت عملی کا تسلسل ہے۔ حالیہ برسوں میں گوگل نے سرچ، تحریر، تصاویر اور مختلف ڈیجیٹل خدمات میں AI کا استعمال نمایاں طور پر بڑھایا ہے۔
یہ فیچر کئی حوالوں سے مائیکروسافٹ کے براؤزر میں موجود فلوٹنگ سرچ بار سے مشابہت رکھتا ہے، تاہم گوگل کی کوشش ہے کہ اسے اپنے AI ماحولیاتی نظام کے ساتھ مزید مربوط بنایا جائے تاکہ صارفین کو زیادہ جامع تجربہ حاصل ہو۔
رپورٹ کے مطابق عام ویب سرچز بھی دستیاب رہیں گی، تاہم AI سے چلنے والے سرچ فیچرز کو نمایاں مقام دیا جا رہا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مستقبل میں سرچ انجنز صرف معلومات تلاش کرنے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ صارفین کے لیے ایک مکمل معاون پلیٹ فارم کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔
فی الحال یہ فیچر تجرباتی مرحلے میں ہے اور صرف محدود صارفین کے لیے دستیاب ہے۔ گوگل نے ابھی اس بارے میں کوئی حتمی اعلان نہیں کیا کہ اسے کب باقاعدہ طور پر گوگل کروم کا حصہ بنایا جائے گا۔ امکان ہے کہ کمپنی آزمائشی نتائج کی بنیاد پر اس میں مزید تبدیلیاں کرے یا اسے مختلف شکل میں متعارف کرائے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ فیچر کامیابی سے متعارف کرایا گیا تو یہ براؤزر استعمال کرنے کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلی لا سکتا ہے اور مصنوعی ذہانت کو عام صارفین کے لیے مزید قابلِ رسائی بنا سکتا ہے








