اسلام آباد کی 50 فیصد سے زائد ہائی رائز عمارتوں میں فائر سیفٹی آلات نامکمل، تشویشناک انکشاف، بنیادی حفاظتی آلات یا تو موجود نہیں یا غیر فعال حالت میں پائے گئے
اسلام آباد : وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی 50 فیصد سے زائد عمارتوں میں فائر سیفٹی کے بنیادی آلات مکمل نہ ہونے کا سنگین انکشاف سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے ہائی رائز عمارتوں کا ابتدائی سروے کیا گیا، جس میں 15 میٹر سے زائد اونچی عمارتوں کو ہائی رائز قرار دیا گیا۔
سروے رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں 500 سے زائد ہائی رائز عمارتیں موجود ہیں، جن میں سے اکثریت میں فائر الارم، فائر ایکسٹنگوئشر اور فائر ہوز ریل جیسے بنیادی حفاظتی آلات یا تو موجود نہیں یا غیر فعال حالت میں پائے گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری اور نجی دونوں نوعیت کی عمارتوں میں بلڈنگ سیفٹی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی سامنے آئی ہے۔ متعدد ہائی رائز عمارتوں میں آگ لگنے کی صورت میں فوری ردعمل کے لیے کوئی مؤثر نظام موجود نہیں، جو کسی بڑے حادثے کی صورت میں جانی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ریڈ زون کی متعدد ہائی رائز عمارتوں میں فائر سیفٹی آلات معیار پر پوری نہیں اترے۔ فیڈرل سیکرٹریٹ کے کئی بلاکس میں فائر الارم اور آگ بجھانے کے دیگر آلات کی عدم موجودگی سامنے آئی ہے، جبکہ کراچی کمپنی کے علاقے میں واقع ہائی رائز عمارتوں میں فائر سیفٹی انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایف 11، ایف 10، جی 13، جی 14 اور گولڑہ موڑ کے علاقوں میں واقع متعدد عمارتوں میں فائر سیفٹی آلات غیر مؤثر پائے گئے، جب کہ صرف بلیو ایریا کی چند ہائی رائز عمارتوں میں فائر سیفٹی کو کسی حد تک تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سی ڈی اے کا شعبہ بلڈنگ کنٹرول سیکشن ہائی رائز عمارتوں میں فائر سیفٹی آلات چیک کرنے کا ذمہ دار ہے، تاہم سروے رپورٹ نے ادارے کی نگرانی اور عملدرآمد پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
One Response