لبنان میں اسرائیلی قبضہ: ایران کا امریکا کو دوٹوک پیغام، معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے

لبنان میں اسرائیلی قبضہ پر ایران کا ردعمل، عباس عراقچی کی پریس کانفرنس
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ایران کا سخت مؤقف: لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی برقرار رہی تو امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت متاثر ہو سکتی ہے

لبنان میں اسرائیلی قبضہ ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کی سیاست کا مرکزی موضوع بن گیا ہے۔ ایران نے واضح اور دوٹوک انداز میں اعلان کیا ہے کہ اگر لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی برقرار رہی تو یہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

تہران میں سفارت کاروں سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران لبنان اور خطے کی مجموعی صورتحال کو ایک دوسرے سے الگ نہیں سمجھتا۔ ان کے مطابق لبنان میں جاری کشیدگی اور اسرائیلی فوج کی موجودگی براہ راست خطے میں امن کے قیام کی کوششوں کو متاثر کر سکتی ہے۔

ایران کا واضح مؤقف

عباس عراقچی نے کہا کہ لبنان میں اسرائیلی قبضے یا فوجی موجودگی کا جاری رہنا ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس صورتحال کو امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کی روح کے منافی تصور کرے گا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر خطے میں پائیدار امن قائم کرنا مقصود ہے تو تمام فریقوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جو کشیدگی میں اضافے کا باعث بنیں۔

لبنان اور ایران کے مفادات

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق لبنان کی صورتحال صرف ایک مقامی مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے استحکام سے جڑی ہوئی ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ لبنان میں جاری تنازع اور اسرائیلی فوجی سرگرمیاں مشرق وسطیٰ کے امن عمل کو براہ راست متاثر کرتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران ہمیشہ خطے میں استحکام، خودمختاری اور سفارتی حل کی حمایت کرتا آیا ہے اور اسی اصول کے تحت لبنان کے معاملے کو بھی دیکھا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت

عباس عراقچی نے انکشاف کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور یہ جمعے کے روز باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان پیر کی صبح تہران کے وقت کے مطابق کیا گیا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر اہم پیش رفت سامنے آئی۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق اس مفاہمتی یادداشت کا بنیادی مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور مختلف محاذوں پر امن کو فروغ دینا ہے۔

اسرائیل کے خلاف سخت پیغام

عباس عراقچی نے واضح کیا کہ لبنان کے خلاف کسی بھی نئے اسرائیلی حملے کو ایران ہرگز قبول نہیں کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک بین الاقوامی قوانین اور طے شدہ معاہدوں کا احترام کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی نئی فوجی کارروائی سے موجودہ امن عمل کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

خطے میں امن کی امید

ایرانی وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ مفاہمتی یادداشت کے نفاذ کے بعد خطے میں استحکام پیدا ہوگا اور مختلف تنازعات کے حل کی راہ ہموار ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ امن کے قیام کے لیے صرف معاہدے کافی نہیں ہوتے بلکہ تمام فریقوں کو عملی اقدامات بھی کرنا ہوتے ہیں۔ اگر کوئی فریق اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتا تو اس سے پورا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔

عالمی سفارتی حلقوں کی نظریں

مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر عالمی سفارتی حلقے گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش سمجھی جا رہی ہے، تاہم لبنان اور اسرائیل سے متعلق معاملات اس عمل کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتے ہیں۔

کئی تجزیہ کاروں کے مطابق لبنان کی صورتحال آنے والے دنوں میں خطے کی سیاست اور سلامتی کے مستقبل کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

لبنان میں اسرائیلی قبضہ کے حوالے سے ایران کا سخت مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن کا عمل ابھی بھی نازک مرحلے میں ہے۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی فوج کی مسلسل موجودگی یا نئی فوجی کارروائیاں امریکا کے ساتھ طے شدہ مفاہمتی یادداشت کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ اب عالمی برادری اور علاقائی طاقتوں کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ سفارتی عمل کس سمت میں آگے بڑھتا ہے۔

READ MORE FAQS

سوال 1: ایران نے لبنان کے حوالے سے کیا مؤقف اختیار کیا ہے؟

جواب: ایران نے کہا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی فوج کی مسلسل موجودگی ناقابل قبول ہے اور یہ معاہدے کی روح کے خلاف ہے۔

سوال 2: یہ بیان کس نے دیا؟

جواب: یہ بیان ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں سفارت کاروں سے گفتگو کے دوران دیا۔

سوال 3: مفاہمتی یادداشت کب نافذ ہوگی؟

جواب: عباس عراقچی کے مطابق مفاہمتی یادداشت جمعے کے روز باضابطہ طور پر نافذ العمل ہوگی۔

سوال 4: ایران نے اسرائیل کو کیا پیغام دیا؟

جواب: ایران نے کہا ہے کہ لبنان کے خلاف کسی بھی نئے اسرائیلی حملے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6

🕌 نماز کے اوقات

فجر03:13 AM
طلوع آفتاب04:57 AM
ظہر12:08 PM
عصر03:53 PM
مغرب07:20 PM
عشاء09:04 PM