پاکستان سٹاک مارکیٹ 100 انڈیکس نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے بلند ترین سطح پر

پاکستان سٹاک مارکیٹ 100 انڈیکس تاریخی بلند سطح پر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ملکی تاریخ میں پہلی بار پاکستان سٹاک مارکیٹ کا 100 انڈیکس بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ نے ایک نئی اور شاندار سنگِ میل عبور کر لیا ہے، جب پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کا ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 81 ہزار پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا۔ یہ ریکارڈ نہ صرف سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے بلکہ ملکی معیشت میں استحکام اور بہتری کی امیدوں کو بھی تقویت دیتا ہے۔

کاروباری ہفتے کے پہلے روز پیر کی صبح جیسے ہی مارکیٹ کا آغاز ہوا، سرمایہ کاروں میں غیر معمولی جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔ مارکیٹ کھلتے ہی ہنڈرڈ انڈیکس میں زبردست تیزی ریکارڈ کی گئی اور چند ہی لمحوں میں انڈیکس نے ایک لاکھ 81 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کر لی۔ کاروبار کے دوران انڈیکس ایک لاکھ 80 ہزار 863 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کرتا رہا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مارکیٹ میں خریداروں کا پلڑا بھاری رہا۔

ماہرین کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں اس تاریخی تیزی کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک بڑی وجہ معاشی اشاریوں میں بہتری، مہنگائی کی شرح میں کمی کی توقعات، اور حکومتی معاشی پالیسیوں پر بڑھتا ہوا اعتماد ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ مثبت پیش رفت، زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام، اور شرح سود کے حوالے سے سازگار امکانات نے بھی مارکیٹ کے رجحان کو تقویت دی ہے۔

سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ طویل عرصے کے بعد مارکیٹ میں ایک واضح سمت نظر آ رہی ہے۔ بڑے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے سرمایہ کار بھی دوبارہ متحرک ہو رہے ہیں، جس کے باعث ٹریڈنگ والیوم میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بینکنگ، توانائی، سیمنٹ، ٹیلی کمیونیکیشن اور آئل اینڈ گیس کے شعبوں میں خریداری کا دباؤ خاص طور پر نمایاں رہا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ میں یہ تیزی محض وقتی نہیں بلکہ اگر معاشی استحکام کا موجودہ رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں مزید ریکارڈ بھی قائم ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اب قلیل مدتی اتار چڑھاؤ کے بجائے طویل مدتی سرمایہ کاری پر توجہ دے رہے ہیں، جو کسی بھی اسٹاک مارکیٹ کے لیے ایک مثبت علامت سمجھی جاتی ہے۔

دوسری جانب زرمبادلہ کی مارکیٹ میں بھی نسبتاً استحکام دیکھنے میں آیا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں ڈالر ایک پیسے سستا ہوا۔ دو روز قبل انٹر بینک میں ڈالر کا ریٹ 280 روپے 11 پیسے تھا، جبکہ اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت 281 روپے 15 پیسے رہی۔ اگرچہ یہ کمی بہت زیادہ نہیں، تاہم ماہرین اسے مثبت اشارہ قرار دے رہے ہیں۔

کرنسی مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت میں استحکام اور معمولی کمی کا رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ زرمبادلہ کی طلب اور رسد میں توازن بہتر ہو رہا ہے۔ برآمدات میں اضافے، ترسیلات زر میں بہتری اور درآمدی دباؤ میں کمی جیسے عوامل اس رجحان میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں روپے کی قدر میں مزید بہتری بھی ممکن ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ اور کرنسی مارکیٹ دونوں کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ جب اسٹاک مارکیٹ میں اعتماد بڑھتا ہے تو غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات بھی بہتر ہوتے ہیں، جس کا مثبت اثر زرمبادلہ کی صورتحال پر پڑتا ہے۔ اسی طرح روپے میں استحکام سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط بناتا ہے، جو مارکیٹ کے لیے خوش آئند ہے۔

کاروباری برادری نے بھی اسٹاک مارکیٹ کے اس تاریخی ریکارڈ کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر پالیسیوں میں تسلسل رکھا جائے اور کاروباری ماحول کو سازگار بنایا جائے تو پاکستان کی معیشت میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ سرمایہ کار دوست پالیسیاں جاری رکھے تاکہ یہ اعتماد مزید مستحکم ہو۔

مجموعی طور پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 81 ہزار پوائنٹس کی سطح پر پہنچنا ملکی معیشت کے لیے ایک اہم اور تاریخی لمحہ ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف مالیاتی منڈیوں میں اعتماد کی بحالی کی علامت ہے بلکہ مستقبل کے لیے امید اور ترقی کے نئے دروازے بھی کھولتی ہے۔ اگر معاشی نظم و ضبط، پالیسیوں کا تسلسل اور اصلاحات کا عمل جاری رہا تو پاکستان کی معیشت مزید مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہو سکتی ہے، جس کا فائدہ براہِ راست عوام اور کاروباری طبقے دونوں کو حاصل ہوگا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]