ایرانی صدر کی وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک گفتگو ،دباؤ کے تحت مذاکرات قبول نہیں، صدر پیزشکیان
تہران: ایران کے نیم سرکاری میڈیا پریس ٹی وی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک گفتگو میں واضح کیا ہے کہ ایران دباؤ، دھمکیوں یا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے تحت امن مذاکرات میں شریک نہیں ہوگا۔

ایرانی صدر کی وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران ایرانی صدر نے کہا کہ تہران کسی بھی قسم کے جبر یا دباؤ کی شرائط پر مذاکرات قبول نہیں کرے گا، اور ایران کا مؤقف اصولی بنیادوں پر قائم ہے۔
مسعود پیزشکیان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ تمام رکاوٹیں دور کی جائیں، جن میں آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک گفتگو میں صدر نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا، تاہم واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور اصولی مؤقف پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کے کردار کا اعادہ کیا اور سفارتی کوششوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
ماہرین کے مطابق ایران کا یہ سخت مؤقف خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے، جو مستقبل کے سفارتی عمل پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif held a telephone call with the President of the Islamic Republic of Iran, His Excellency Dr. Masoud Pezeshkian
The two leaders had a detailed exchange of views on the current regional situation and ongoing efforts to promote peace and… pic.twitter.com/IlxvzhokBE
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) April 25, 2026