پاکستان میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی، فی تولہ ہزاروں روپے سستا
سونے کی قیمت میں کمی کا سلسلہ عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں مسلسل جاری ہے، جس کے اثرات پاکستان میں بھی واضح طور پر دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 5200 روپے کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد نئی قیمت 493,762 روپے ہو گئی ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 4458 روپے کمی ہوئی ہے، جس کے بعد یہ 423,321 روپے کی سطح پر آ گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق سونے کی قیمت میں کمی کی بنیادی وجوہات میں عالمی مارکیٹ میں سونے کی طلب میں کمی، امریکی ڈالر کی مضبوطی، اور عالمی معاشی حالات میں تبدیلی شامل ہیں۔ جب عالمی سطح پر سونے کی قیمت کم ہوتی ہے تو اس کے اثرات مقامی مارکیٹوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں، اور پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔
پاکستان میں سونے کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے ساتھ ساتھ روپے اور ڈالر کے درمیان شرح تبادلہ سے بھی ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں کمی نے مل کر سونے کی قیمت میں کمی کو مزید تیز کر دیا ہے۔
جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی قیمت میں اس نمایاں کمی کے بعد مارکیٹ میں خریداروں کی دلچسپی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خاص طور پر شادی سیزن کے قریب آنے کے باعث لوگ سونے کی خریداری کو ایک اچھا موقع سمجھ رہے ہیں۔ سونے کی قیمت میں کمی نے متوسط طبقے کیلئے بھی سونا خریدنا نسبتاً آسان بنا دیا ہے۔
دوسری جانب سرمایہ کاروں کیلئے یہ صورتحال ملا جلا رجحان رکھتی ہے۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمت میں کمی وقتی ہے اور مستقبل میں قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ دیگر کا ماننا ہے کہ عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث سونے کی قیمتیں مزید نیچے جا سکتی ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں کا تعلق امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسیوں، شرح سود، اور عالمی سیاسی حالات سے بھی ہوتا ہے۔ جب شرح سود بڑھتی ہے تو سرمایہ کار سونے کی بجائے دیگر اثاثوں کی طرف مائل ہوتے ہیں، جس سے سونے کی قیمت میں کمی واقع ہوتی ہے۔ یہی رجحان حالیہ دنوں میں بھی دیکھا جا رہا ہے، جس نے سونے کی قیمت میں کمی کو تقویت دی ہے۔
پاکستانی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا اثر نہ صرف جیولری انڈسٹری بلکہ معیشت کے دیگر شعبوں پر بھی پڑتا ہے۔ زیورات بنانے والے کاریگروں، دکانداروں، اور سرمایہ کاروں سبھی پر اس کا اثر ہوتا ہے۔ سونے کی قیمت میں کمی کے باعث جہاں خریدار خوش ہیں، وہیں کچھ سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں استحکام آتا ہے تو پاکستان میں بھی قیمتیں مستحکم ہو سکتی ہیں۔ تاہم اگر عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو سونے کی قیمت میں کمی کا رجحان جاری رہ سکتا ہے۔
عوامی حلقوں میں بھی اس خبر کو مثبت انداز میں لیا جا رہا ہے، خاص طور پر وہ افراد جو سونا خریدنے کا ارادہ رکھتے تھے، اب اس موقع کو غنیمت سمجھ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی سونے کی قیمت میں کمی ایک ٹرینڈ بن چکا ہے، جہاں لوگ اس پر مختلف تبصرے کر رہے ہیں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سونے کی قیمت میں کمی ایک اہم معاشی پیش رفت ہے، جس کے اثرات نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ عام شہریوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ رجحان برقرار رہتا ہے یا مارکیٹ میں دوبارہ اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔

