سعودی عرب کی ایران کو جوابی کارروائی کی دھمکی، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ
ریاض (8 مارچ 2026): سعودی عرب نے مملکت میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کے بعد پہلی بار ایران کو براہِ راست جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے بعد ایران نے سعودی عرب سمیت مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا جس سے کئی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ ان حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
سعودی عرب کی ایران کو جوابی کارروائی کا پیغام
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران سعودی عرب نے ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر مملکت یا اس کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو ریاض خاموش نہیں بیٹھے گا اور بھرپور جواب دے گا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق سعودی حکام نے تہران کو سفارتی ذرائع سے پیغام دیا ہے کہ ریاض اب بھی ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کا سفارتی حل چاہتا ہے، تاہم مملکت کی سلامتی یا آئل تنصیبات پر حملے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
خلیجی ممالک کا محتاط رویہ
ذرائع کے مطابق خلیجی ممالک نے اب تک ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے امریکا کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ تاہم اگر خطے میں حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو سعودی عرب امریکی افواج کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے پر غور کر سکتا ہے۔
ایران کا مؤقف
دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیوں کا ہدف خلیجی ممالک نہیں بلکہ خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی اہداف ہیں۔ تہران نے مطالبہ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو بند کیا جائے۔
سعودی آرامکو کے متبادل انتظامات
دریں اثنا سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل کمپنی آرامکو نے تیل کی ترسیل کے لیے متبادل انتظامات شروع کر دیے ہیں۔ ابتدائی طور پر تیل کی محدود ترسیل ینبوع بندرگاہ منتقل کر دی گئی ہے۔
سعودی آرامکو کے مطابق خطے کی موجودہ صورتحال کا قریبی جائزہ لیا جا رہا ہے اور حالات کے مطابق کمپنی کے آپریشنز کو معمول پر لانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔