ٹرمپ کا بڑا بیان، ایران کے خلاف جنگ جلد ختم ہونے کا اشارہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ٹرمپ کا بڑا بیان، ایران کے خلاف جنگ جلد ختم ہونے کا اشارہ

واشنگٹن (11 مارچ 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف جاری جنگ کے جلد خاتمے کا اشارہ دے دیا ہے۔

امریکی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ اب اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور جلد ختم ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران میں نشانہ بنانے کے لیے اب زیادہ اہداف باقی نہیں رہے اور جب وہ چاہیں گے ایران کے خلاف جنگ کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔

ایران کو توقع سے زیادہ نقصان پہنچایا گیا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کو توقع سے زیادہ نقصان پہنچا چکا ہے اور جنگ امریکا کی منصوبہ بندی سے بھی زیادہ کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے چھ ماہ میں جتنا نقصان پہنچانے کا اندازہ لگایا تھا، اس سے زیادہ نقصان ایران کو پہلے ہی پہنچایا جا چکا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای
وزیراعظم شہباز شریف اور ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی علامتی تصویر۔

ایران خطے کے لیے خطرہ قرار

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی دشمنی صرف امریکا اور اسرائیل تک محدود نہیں بلکہ اس نے خلیجی ریاستوں کو بھی نشانہ بنایا ہے اور اب وہ پورے خطے کا دشمن بن چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران نے گزشتہ 47 سال سے خطے میں موت اور تباہی پھیلائی اور اب اسے اس کی قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔

ایران کے خلاف جنگ اپنے منطقی انجام کے قریب

امریکی صدر نے اس سے قبل بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ اپنے منطقی انجام کے بہت قریب پہنچ چکی ہے اور امریکا اپنے مقررہ اہداف کے حصول میں ابتدائی اندازے سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ اگرچہ جنگ اس ہفتے ختم نہیں ہوگی تاہم بہت جلد اس کا خاتمہ متوقع ہے۔

ایران کی فوجی صلاحیت کمزور ہونے کا دعویٰ

ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ اور مواصلاتی نظام تقریباً ناکارہ ہو چکے ہیں۔

انہوں نے ایرانی قیادت کے حوالے سے سخت بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی لیڈرشپ کے دو اہم درجے مکمل طور پر ختم کیے جا چکے ہیں اور ایران کو اس سے کہیں زیادہ نقصان بھی اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

 

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]