سونے کی قیمت میں کمی: فی تولہ 4,98,962 روپے تک آ گیا

سونے کی قیمت میں کمی پاکستان
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

گولڈ مارکیٹ میں مسلسل کمی، سونا اور چاندی مزید سستے

عالمی اور مقامی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حالیہ کمی نے سرمایہ کاروں، تاجروں اور عام صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جسے ماہرین عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، ڈالر کی قدر میں تبدیلی اور سرمایہ کاری کے رجحانات سے جوڑ رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت میں 1 ہزار 200 روپے کی کمی واقع ہوئی، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 4 لاکھ 98 ہزار 962 روپے ہو گئی ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت بھی 1 ہزار 29 روپے کم ہو کر 4 لاکھ 27 ہزار 779 روپے تک آ گئی ہے۔ 22 قیراط سونے کی بات کی جائے تو اس کی 10 گرام قیمت میں 943 روپے کی کمی دیکھی گئی، جس کے بعد یہ 3 لاکھ 92 ہزار 145 روپے پر آ گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ کمی وقتی بھی ہو سکتی ہے اور طویل مدتی رجحان کا حصہ بھی، اس کا انحصار عالمی معاشی حالات پر ہے۔ خاص طور پر امریکی ڈالر کی قدر، عالمی افراطِ زر، مرکزی بینکوں کی پالیسیز اور جیو پولیٹیکل صورتحال سونے کی قیمتوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔

چاندی کی قیمتوں میں بھی کمی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جو عام صارفین اور چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے کسی حد تک ریلیف کا باعث بن سکتا ہے۔ مقامی مارکیٹ میں فی تولہ چاندی کی قیمت 34 روپے کمی کے بعد 8 ہزار 324 روپے ہو گئی ہے، جبکہ 10 گرام چاندی 29 روپے سستی ہو کر 7 ہزار 136 روپے میں دستیاب ہے۔

بین الاقوامی مارکیٹ کی صورتحال پر نظر ڈالی جائے تو وہاں بھی سونے کی قیمت میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ فی اونس سونا 12 ڈالر سستا ہو کر 4 ہزار 766 ڈالر کی سطح پر آ گیا ہے۔ عالمی سطح پر اس کمی کی بڑی وجوہات میں سرمایہ کاروں کا متبادل اثاثوں کی جانب رجحان، شرح سود میں ممکنہ اضافہ اور عالمی معیشت میں استحکام کی امید شامل ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت کم ہوتی ہے تو اس کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوتے ہیں، تاہم پاکستان میں روپے کی قدر اور درآمدی لاگت بھی قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر ڈالر مہنگا ہو تو عالمی سطح پر قیمت کم ہونے کے باوجود مقامی سطح پر اس کا مکمل فائدہ منتقل نہیں ہو پاتا۔

سونے کی قیمتوں میں کمی کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ شادیوں کے سیزن میں زیورات خریدنے والوں کو کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔ پاکستان میں سونا نہ صرف سرمایہ کاری بلکہ ثقافتی اور سماجی اہمیت بھی رکھتا ہے، خاص طور پر شادی بیاہ کی تقریبات میں اس کا استعمال ایک روایت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

دوسری جانب سرمایہ کاروں کے لیے یہ صورتحال ملے جلے رجحانات کی حامل ہے۔ کچھ سرمایہ کار اس کمی کو خریداری کا موقع سمجھتے ہیں، جبکہ دیگر محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے مزید کمی کے انتظار میں رہتے ہیں۔ ماہرین عام صارفین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ سونے میں سرمایہ کاری کرتے وقت طویل مدتی حکمت عملی اپنائیں اور وقتی اتار چڑھاؤ سے زیادہ متاثر نہ ہوں۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگر عالمی سطح پر شرح سود میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو سونے کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، کیونکہ اس صورت میں سرمایہ کار سونے کے بجائے بانڈز اور دیگر منافع بخش اثاثوں کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ تاہم اگر عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی ہے تو سونا دوبارہ محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر اپنی اہمیت حاصل کر سکتا ہے۔

پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی کا براہِ راست فائدہ جیولری انڈسٹری کو بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ کم قیمتوں کی وجہ سے طلب میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ زیورات بنانے والے کاریگروں کے لیے بھی کاروباری سرگرمیوں میں بہتری آ سکتی ہے۔

مختصراً، سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حالیہ کمی ایک اہم معاشی پیش رفت ہے جس کے اثرات مختلف شعبوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ یہ صورتحال وقتی بھی ہو سکتی ہے اور آنے والے دنوں میں عالمی حالات کے مطابق اس میں مزید تبدیلیاں بھی دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ سرمایہ کاروں، تاجروں اور صارفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ مارکیٹ کے رجحانات پر گہری نظر رکھیں اور سوچ سمجھ کر فیصلے کریں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]