سونے کی قیمت میں بڑی کمی: فی تولہ 8900 روپے سستا، چاندی بھی نیچے آ گئی

سونے کی قیمت میں بڑی کمی پاکستان آج
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

صرافہ مارکیٹ میں بڑی مندی: سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں کمی، سرمایہ کار حیران

عالمی اور مقامی صرافہ مارکیٹ میں حالیہ دنوں کے دوران قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں مسلسل دو روز کی تیزی کے بعد سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اچانک نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ عام خریداروں کے لیے بھی خاصی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ قیمتی دھاتوں کی قیمتیں عالمی معاشی رجحانات کا اہم اشارہ سمجھی جاتی ہیں۔

تازہ اطلاعات کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی واقع ہوئی ہے، جہاں یہ 89 ڈالر فی اونس سستا ہو کر 4627 ڈالر فی اونس تک آ گیا ہے۔ عالمی سطح پر اس کمی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں ڈالر کی مضبوطی، شرح سود میں تبدیلی، اور عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال شامل ہیں۔ جب عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت گرتی ہے تو اس کے اثرات براہ راست مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔

پاکستان میں بھی یہی رجحان دیکھنے میں آیا، جہاں آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی صرافہ مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ ایک تولہ سونا 8900 روپے سستا ہو کر 4 لاکھ 85 ہزار 62 روپے تک آ گیا ہے۔ اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت میں 7630 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 15 ہزار 862 روپے ہو گئی ہے۔

چاندی کی قیمت بھی اس کمی سے متاثر ہوئی ہے۔ فی تولہ چاندی 238 روپے سستی ہو کر 7811 روپے تک آ گئی ہے۔ اگرچہ چاندی کی قیمت میں کمی سونے کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے، لیکن یہ بھی مارکیٹ کے مجموعی رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس کمی سے ایک روز قبل مارکیٹ میں تیزی کا رجحان دیکھا گیا تھا۔ 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 800 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 93 ہزار 962 روپے تک پہنچ گئی تھی۔ اسی طرح 10 گرام 24 قیراط سونے کی قیمت 686 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 23 ہزار 492 روپے ہو گئی تھی، جبکہ 22 قیراط سونے کی قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس تیزی کے بعد اچانک آنے والی کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مارکیٹ اس وقت غیر یقینی کیفیت کا شکار ہے۔

ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں اس قسم کا اتار چڑھاؤ عام طور پر عالمی مالیاتی پالیسیوں، افراط زر، اور کرنسی مارکیٹ کی صورتحال سے جڑا ہوتا ہے۔ خاص طور پر جب سرمایہ کار خطرات سے بچنے کے لیے سونے میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو قیمتیں بڑھتی ہیں، اور جب حالات بہتر ہوتے ہیں تو وہ سرمایہ نکال لیتے ہیں، جس سے قیمتوں میں کمی آتی ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حالیہ کمی ایک عارضی رجحان بھی ہو سکتی ہے اور ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں دوبارہ تیزی دیکھنے میں آئے۔ اس لیے سرمایہ کاروں اور خریداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مارکیٹ کے رجحانات پر گہری نظر رکھیں اور کسی بھی فیصلے سے قبل عالمی و مقامی عوامل کو مدنظر رکھیں۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]