سونے کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر ملکی اور عالمی مارکیٹوں میں نمایاں موضوع بن گیا ہے۔ کاروباری ہفتے کے دوران سونے کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے بعد آج دوبارہ نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں مقامی صرافہ مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت 4 لاکھ 69 ہزار 285 روپے تک پہنچ گئی۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 14.50 ڈالر اضافے کے بعد 4468 ڈالر فی اونس ہوگئی۔ بین الاقوامی سطح پر قیمتوں میں اس اضافے کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے، جہاں فی تولہ سونے کی قیمت میں 1523 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
آل پاکستان صرافہ بازار کے مطابق اس اضافے کے بعد 24 قیراط فی تولہ سونے کی نئی قیمت 469,285 روپے ہوگئی ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 1305 روپے اضافہ ہوا، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 402,335 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب چاندی کی قیمت میں کمی دیکھی گئی۔ فی تولہ چاندی 97 روپے سستی ہوکر 7,797 روپے کی سطح پر آگئی۔ یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قیمتی دھاتوں کی عالمی مارکیٹ میں مختلف عوامل قیمتوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز سونے کی قیمت میں نمایاں کمی دیکھی گئی تھی۔ عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا 86 ڈالر سستا ہوکر 4454 ڈالر تک گر گیا تھا جبکہ پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت 8600 روپے کم ہوکر 467,762 روپے رہ گئی تھی۔ اسی طرح 10 گرام سونا 7373 روپے سستا ہونے کے بعد 401,030 روپے کا ہوگیا تھا۔
ماہرین کے مطابق عالمی اقتصادی حالات، مرکزی بینکوں کی پالیسیوں، امریکی ڈالر کی قدر اور جغرافیائی سیاسی صورتحال سونے کی قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔ سرمایہ کار غیر یقینی معاشی حالات میں سونے کو محفوظ سرمایہ کاری تصور کرتے ہیں، جس کے باعث طلب میں اضافے سے قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔
پاکستان میں سونے کی قیمتیں عالمی مارکیٹ کے رجحانات اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر سے متاثر ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر معمولی تبدیلی بھی مقامی صرافہ بازار میں نمایاں فرق پیدا کر سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں اور خریداروں کو مارکیٹ کی صورتحال پر نظر رکھنے اور خریداری یا سرمایہ کاری سے قبل تازہ ترین نرخ معلوم کرنے کی تجویز دی جاتی ہے۔
سونے کی قیمت میں اضافہ نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ زیورات خریدنے والے صارفین کے لیے بھی اہم خبر ہے، کیونکہ قیمتوں میں معمولی تبدیلی بھی خریداری کے اخراجات پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے








