شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا ٹیلیفونک رابطہ، امن معاہدے کے بعد تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا ٹیلیفونک رابطہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا ٹیلیفونک رابطہ، امن معاہدے کے بعد تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، گفتگو 30 منٹ سے زائد جاری رہی

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں دونوں رہنماؤں نے حالیہ اسلام آباد امن معاہدے کے بعد پیدا ہونے والی مثبت صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور خطے میں امن و استحکام سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق اسلام آباد امن معاہدے پر دستخط کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلا باضابطہ رابطہ تھا۔شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا ٹیلیفونک رابطہ میں گفتگو 30 منٹ سے زائد جاری رہی، جس دوران دونوں رہنماؤں نے معاہدے کی اہمیت اور اس کے ممکنہ مثبت اثرات پر گفتگو کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، ایرانی قیادت اور عوام کو تاریخی امن معاہدے پر دستخط کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ نہ صرف خطے میں امن و استحکام کے قیام میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ ایرانی عوام کی تعمیرِ نو اور اقتصادی بحالی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کر دیے
امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط، پاکستان کا ثالثی کردار عالمی سطح پر سراہا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان برادرانہ تعلقات تاریخی، مذہبی اور ثقافتی بنیادوں پر استوار ہیں اور یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، علاقائی روابط اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کا باعث بنے گا۔

وزیراعظم نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے لیے بھی نیک خواہشات اور پرتپاک احترام کا اظہار کرتے ہوئے مذاکراتی عمل میں ایرانی قیادت کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے امن معاہدے پر دستخط کے فیصلے کو دور اندیشی قرار دیتے ہوئے مذاکرات کے اگلے مرحلے میں بھی کامیابی کے لیے دعا کی۔

شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا ٹیلیفونک رابطہ کے موقع پر وزیر اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک برادر اور ہمسایہ ملک کی حیثیت سے ہر شعبے میں ایران کی مکمل حمایت جاری رکھے گا اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

اعلامیے کے مطابق ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں شخصیات نے انتہائی دانشمندی، اخلاص اور سفارتی مہارت کے ساتھ ثالثی کے عمل کو کامیاب بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا ٹیلیفونک رابطہ کے موقع پر ایرانی صدر نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو ایران ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھے گا اور مشکل وقت میں پاکستان کی تعمیری، مثبت اور مخلصانہ حمایت کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے پاکستانی عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے اور مستقبل میں اقتصادی، تجارتی اور سفارتی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتا ہے۔

اعلامیے کے مطابق شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا ٹیلیفونک رابطہ میں دونوں رہنماؤں نے باہمی سہولت کے مطابق جلد ایک دوسرے کے دارالحکومتوں کے دوروں پر اتفاق کیا جبکہ مستقبل میں بھی مسلسل رابطے اور مشاورت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اسلام آباد امن معاہدے کے بعد دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ہونے والا یہ رابطہ پاکستان اور ایران کے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوسکتا ہے، جس سے نہ صرف دوطرفہ تعاون میں اضافہ ہوگا بلکہ خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: شہباز شریف اور مسعود پزشکیان کے درمیان رابطہ کب ہوا؟

جواب: اسلام آباد امن معاہدے پر دستخط کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلا ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔

سوال 2: گفتگو میں کن امور پر تبادلہ خیال کیا گیا؟

جواب: علاقائی امن، پاکستان ایران تعلقات، امن معاہدے کی اہمیت اور مستقبل کے تعاون پر گفتگو ہوئی۔

سوال 3: ایرانی صدر نے پاکستان کے کردار کے بارے میں کیا کہا؟

جواب: صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ثالثی اور سفارتی کوششوں کو سراہا۔

سوال 4: کیا دونوں ممالک کے دوروں پر بھی اتفاق ہوا؟

جواب: جی ہاں، دونوں رہنماؤں نے باہمی سہولت کے مطابق جلد ایک دوسرے کے دارالحکومتوں کے دوروں پر اتفاق کیا۔

سوال 5: اسلام آباد امن معاہدے کی اہمیت کیا ہے؟

جواب: یہ معاہدہ خطے میں امن، استحکام، اقتصادی تعاون اور پاکستان و ایران کے تعلقات کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6

🕌 نماز کے اوقات

فجر03:13 AM
طلوع آفتاب04:57 AM
ظہر12:09 PM
عصر03:53 PM
مغرب07:20 PM
عشاء09:04 PM