امریکی صدر ایران کی نئی تجاویز سے ناخوش، جوہری پروگرام پر وضاحت نہ ہونے پر تحفظات

واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے پیش کی گئی نئی تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں، کیونکہ ان میں ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے کوئی واضح مؤقف شامل نہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ حالیہ تجاویز میں بنیادی نکات پر وضاحت کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے امریکی قیادت کو تحفظات لاحق ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا کو تجاویز پیش کی ہیں، جن میں پہلے جنگ بندی اور پھر مستقل سیز فائر کی ضمانت شامل ہے۔
ایران کی نئی تجاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آبنائے ہُرمز کو کھولنے کی پیشکش امریکی ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط ہوگی۔ ایران کا مؤقف ہے کہ ان شرائط کی تکمیل کے بعد ہی جوہری پروگرام پر بات چیت ممکن ہوگی۔
ایران نے مزید زور دیا ہے کہ امریکا کو پُرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کے ایرانی حق کو تسلیم کرنا ہوگا، جسے تہران اپنی خودمختاری اور توانائی کے مستقبل کے لیے اہم قرار دیتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اختلافات امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں، جبکہ خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی چیلنجز کا سامنا رہ سکتا ہے۔
JUST IN: 🇮🇷🇺🇸 U.S. President Donald Trump is unhappy with Iran’s latest proposal to end the war.
— Donald J Trump Posts TruthSocial (@TruthTrumpPost) April 28, 2026