ٹرمپ کا بڑا اعلان: امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ مکمل، دستخط بھی ہو گئے
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے اور اس پر تمام فریقین کے دستخط بھی ہو گئے ہیں، جسے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا، “مجھے یہ کہتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، معاہدہ مکمل ہو چکا ہے۔”
اعلیٰ انتظامی حکام کے مطابق اس مفاہمتی معاہدے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے الیکٹرانک طور پر دستخط کیے ہیں، جبکہ اس ہفتے کے اختتام پر سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ایک باقاعدہ دستخطی تقریب منعقد کی جائے گی۔

امریکی صدر نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ کے تحت ایران کو پرامن اور سویلین مقاصد کے لیے جوہری پروگرام جاری رکھنے کی اجازت دی جائے گی، تاہم اس کے عسکری استعمال پر سخت اور مستقل پابندیاں عائد ہوں گی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق مذاکرات کے دوران ایران کی یورینیم افزودگی کی سرگرمیوں کو محدود یا معطل کرنے کے مختلف آپشنز پر غور کیا گیا، جن میں 15 سے 20 سال تک کی پابندیوں کی تجاویز شامل تھیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ 15 سالہ انتظام کو قبول کر سکتے ہیں، بشرطیکہ ایران افزودگی کی سطح کو اس حد تک محدود رکھے جو فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہ ہو سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ کا ایک اہم نکتہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کی مکمل آزادی کو یقینی بنانا ہے، اور اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ وہاں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے کسی قسم کا ٹول ٹیکس یا اضافی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری پیغام میں جنگ بندی معاہدے کے تمام فریقین کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط کشیدگی کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے۔ تاہم یورینیم افزودگی کی حتمی حد، منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی، ممکنہ جنگی نقصانات کے ازالے اور پابندیوں کے مکمل خاتمے جیسے معاملات پر مزید تفصیلات سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔
“The Deal with Islamic Republic of Iran is now complete. Congratulations to all!” President Donald J. Trump 🇺🇸 pic.twitter.com/RdSwyEdEtO
— The White House (@WhiteHouse) June 14, 2026
READ MORE FAQS”
سوال: کیا امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے؟
جواب: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق معاہدہ مکمل ہو چکا ہے اور اس پر دستخط بھی کیے جا چکے ہیں۔
سوال: معاہدے پر کس نے دستخط کیے؟
جواب: حکام کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے الیکٹرانک دستخط کیے ہیں۔
سوال: جنیوا میں کیا ہونے جا رہا ہے؟
جواب: اس ہفتے کے آخر میں جنیوا میں معاہدے کی باضابطہ دستخطی تقریب منعقد کیے جانے کا امکان ہے۔
سوال: معاہدے میں آبنائے ہرمز سے متعلق کیا فیصلہ کیا گیا؟
جواب: صدر ٹرمپ کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے کسی قسم کا ٹول ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا۔






