امریکا ایران معاہدہ جلد متوقع، مذاکرات آخری مرحلے میں داخل، ٹرمپ کا دعویٰ

امریکا ایران معاہدہ قریب، ٹرمپ کا بڑا دعویٰ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

امریکا ایران معاہدہ جلد متوقع، مذاکرات آخری مرحلے میں داخل، ٹرمپ کا دعویٰ، امریکا ایرانی بندرگاہوں پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی کرے گا

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور جلد اہم اعلان متوقع ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایران معاہدے کے آخری نکات پر بات چیت جاری ہے جبکہ کئی مسلم ممالک کے رہنماؤں سے اس حوالے سے مثبت گفتگو ہوئی ہے۔ ان کے مطابق امریکا ایران معاہدہ کے بعد آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال کر دیا جائے گا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچنے کے بعد اہم ملاقاتوں کیلئے روانہ
فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران امریکا مذاکرات کے تناظر میں اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، اماراتی صدر محمد بن زاید، امیر قطر شیخ تمیم، قطری وزیراعظم محمد بن عبدالرحمن، ترک صدر رجب طیب اردوان اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے بھی رابطے کیے۔

دوسری جانب امریکی خبر ایجنسی AXIOS کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط متوقع ہیں جس کی مدت ابتدائی طور پر 60 روز ہوگی جبکہ امریکا ایران معاہدہ میں توسیع کی گنجائش بھی رکھی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق مجوزہ امریکا ایران معاہدہ کے تحت ایران آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ٹول ٹیکس کے بحری آمدورفت کے لیے کھلا رکھے گا جبکہ وہاں بچھائی گئی بارودی سرنگیں بھی ہٹانے پر آمادہ ہوگا تاکہ عالمی تجارتی جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت بحال کی جا سکے۔

اس دوران ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے سے متعلق مذاکرات بھی جاری رہیں گے جبکہ امریکا ایرانی بندرگاہوں پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی کرے گا۔ اس کے نتیجے میں ایران عالمی منڈی میں تیل کی فروخت دوبارہ بڑھا سکے گا جس سے نہ صرف ایرانی معیشت بلکہ عالمی تیل مارکیٹ کو بھی ریلیف ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق اس مجوزہ معاہدے کا بنیادی اصول “کارکردگی کے بدلے ریلیف” ہوگا، یعنی ایران جتنی تیزی سے آبنائے ہرمز میں بحری راستے بحال کرے گا، امریکا بھی اسی رفتار سے اقتصادی پابندیوں میں نرمی کرے گا۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: ٹرمپ نے ایران معاہدے کے بارے میں کیا کہا؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آخری مرحلے میں ہیں اور جلد معاہدے کا اعلان ہوسکتا ہے۔

سوال 2: مجوزہ معاہدے میں کیا شامل ہے؟

معاہدے میں آبنائے ہرمز کھولنا، بارودی سرنگیں ہٹانا اور ایران پر بعض پابندیوں میں نرمی شامل ہے۔

سوال 3: آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟

آبنائے ہرمز عالمی تیل ترسیل کا اہم بحری راستہ ہے جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل گزرتا ہے۔

سوال 4: امریکا ایران کو کیا ریلیف دے سکتا ہے؟

رپورٹس کے مطابق امریکا ایرانی بندرگاہوں اور تیل کی فروخت پر عائد بعض پابندیاں نرم کر سکتا ہے۔

سوال 5: ایران کے جوہری پروگرام پر کیا بات ہو رہی ہے؟

مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے سے متعلق نکات بھی زیر بحث ہیں۔

سوال 6: کن عالمی رہنماؤں سے ٹرمپ نے رابطہ کیا؟

ٹرمپ نے پاکستان، سعودی عرب، قطر، یو اے ای، ترکی اور مصر کے رہنماؤں سے گفتگو کا دعویٰ کیا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]